Washington — President Donald Trump on Sunday announced an immediate U.S. Navy blockade of all ships attempting to enter or leave the Strait of Hormuz after Islamabad peace talks with Iran failed to resolve disputes over Tehran's nuclear program. He posted the declaration on Truth Social and ordered naval interdiction of vessels alleged to have paid transit tolls to Iran. Washington said the Navy will interdict vessels in international waters that have paid tolls to Tehran, with officials framing the move as a direct response to alleged Iranian maritime threats and claims of mine-laying. This week regional governments, shipping companies and U.S. naval units are assessing security, commercial impacts and operational plans, and U.S. forces are expected to increase patrols in coming days.
Prepared by Lauren Mitchell and reviewed by editorial team.
هارمز آبنائے کی ناکہ بندی تیل کی قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہ آبی راستہ تیل کے ٹینکروں کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ اگر ناکہ بندی تیل کی ترسیل کو سست کر دیتی ہے، تو آپ کو پمپ پر گیس کی قیمتیں زیادہ نظر آ سکتی ہیں۔ اپنی مقامی گیس کی قیمتوں پر نظر رکھیں۔
یہ ناکہ بندی ایران کی مبینہ بحری دھمکیوں کے جواب میں ایک سنجیدہ اقدام ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ کب تک جاری رہے گا یا خطے میں کشیدگی کو کس حد تک بڑھا سکتا ہے۔ اگر آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو عالمی سیاست یا تیل کی قیمتوں پر گہری نظر رکھتا ہے تو اسے بھیجنے کے لائق ہے۔
امریکی انتظامیہ اور اتحادی ممالک جو ایران کے سمندری اثر و رسوخ کو روکنا اور مبینہ ترسیلی محصولات کو روکنا چاہتے ہیں، وہ اہم بحری راستوں پر اسٹریٹجک اثر و رسوخ اور آپریشنل کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔
ایران، علاقائی تجارتی جہاز ران، اور آبنائے ہرمز سے ٹرانزٹ پر انحصار کرنے والے ممالک کو ناکہ بندی سے اقتصادی بدامنی، شپنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات، اور سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
No left-leaning sources found for this story.
ٹرمپ کی آبنائے ہرمز میں فوری بحری ناکہ بندی کا اعلان، ایران کے ساتھ امن مذاکرات ناکام
WND Brisbane Times Times of Oman
Comments