Washington: Senior U.S. officials said on April 12 that negotiations with Iranian representatives in Islamabad lasted roughly 21 hours and ended without an agreement; Vice President JD Vance told reporters that President Donald Trump was closely involved, and that the United States presented what it described as a 'final and best offer' to Tehran during the talks. Immediate consequences include continued diplomatic stalemate and public reaction: U.S. officials said they pursued a deal in good faith but set clear limits, protesters in Baton Rouge demonstrated against negotiating with Iran, and regional strikes were reported around the same period; U.S. negotiators and the White House signaled next steps would depend on whether Tehran accepts the offered terms.
Prepared by Lauren Mitchell and reviewed by editorial team.
یہ بات چیت عالمی استحکام اور آپ کی حفاظت کو متاثر کرتی ہے۔ اگر ایران نے امریکہ کی پیشکش قبول نہ کی تو کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال پر تازہ ترین اطلاعات دیکھتے رہیں۔
امریکہ نے اپنی آخری پیشکش کر دی ہے۔ اب، ایران کی باری ہے۔ اگر آپ عالمی امن کے بارے میں فکر مند ہیں، تو اس پر نظر رکھنا قابل قدر ہے۔ اگر آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو بین الاقوامی سفارت کاری کو اہمیت دیتا ہے تو اسے فارورڈ کرنا قابل قدر ہے۔
امریکی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں واشنگٹن کی بیان کردہ حدود کو مضبوط کرتے ہوئے 'آخری اور بہترین پیشکش' کا اعلان کر کے عوامی طور پر ایک مذاکراتی موقف پیش اور مضبوط کیا۔
21 گھنٹے کے مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے، جس کے نتیجے میں سفارتی مذاکرات غیر حل شدہ رہے اور امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار رہی۔
No left-leaning sources found for this story.
ایران کے ساتھ امریکی مذاکرات بے نتیجہ، 'آخری اور بہترین پیشکش' کے باوجود ناکام
Social News XYZ Ommcom News LatestLYبیٹن روج میں ایرانیوں نے اپنی حکومت کے خلاف احتجاج کیا، اور ٹرمپ سے 'دہشت گردوں' کے ساتھ بات چیت نہ کرنے کی اپیل کی
WBRZ
Comments