Washington — On Sunday, U.S. President Donald Trump said U.S. naval forces intercepted and seized the Iranian-flagged cargo ship TOUSKA in the Gulf of Oman after the vessel ignored warnings to stop; the USS Spruance reportedly fired on the ship and U.S. Marines took custody. He posted the account on Truth Social on April 19 and 20. The seizure occurred amid a U.S. naval blockade affecting Strait of Hormuz traffic and followed reports that Iran had fired on commercial vessels earlier that day; U.S. officials reported the TOUSKA is under U.S. Treasury sanctions. Negotiators were reported to plan travel to Pakistan on Monday as a fragile ceasefire approached expiry this week.
Prepared by Rachel Morgan and reviewed by editorial team.
یہ صورتحال تیل کی قیمتوں اور اس کے نتیجے میں پمپ پر گیس کی قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ اگر کشیدگی بڑھتی ہے تو یہ عالمی تجارت اور سفر کو متاثر کر سکتی ہے۔ خبروں پر نظر رکھیں اور ممکنہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے لیے بجٹ بنانے پر غور کریں۔
امریکہ نے بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان ایک پابندی والے ایرانی بحری جہاز کو ضبط کر لیا ہے۔ صورتحال غیر مستحکم ہے، امریکی مذاکرات کار بات چیت کے لیے پاکستان روانہ ہو گئے ہیں۔ اگر آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو عالمی واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہے یا گیس کی قیمتوں کے بارے میں فکر مند ہے تو اسے بھیجنا قابل قدر ہے۔
امریکی فوج نے TOUSKA کی تحویل سنبھالی اور امریکی سفارتی ٹیموں نے مذاکرات جاری رکھنے کے منصوبے برقرار رکھے، جو فوری مدت میں امریکی آپریشنل کنٹرول اور مذاکراتی پوزیشن کو مضبوط کر سکتے ہیں۔
ایرانی پرچم بردار بحری جہاز TOUSKA اور اس کے عملے کو امریکی تحویل میں لے لیا گیا، جب کہ ایران کو سمندری کشیدگی میں ایک نئی شدت اور بین الاقوامی جانچ کا سامنا تھا۔
No left-leaning sources found for this story.
امریکی بحریہ نے ایران کے پرچم والے کارگو جہاز TOUSKA کو روکا اور ضبط کر لیا
The Frontier Post Asian News International (ANI) The Straits Times The Herald Journalامریکی بحریہ کے جنگی جہاز نے ایرانی کارگو جہاز میں 'سوراخ کر دیا' جس نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی، ٹرمپ نے کہا
New York Post
Comments