Washington: Israeli and Lebanese envoys met at the US State Department on April 14 for direct talks, with Israeli Ambassador Yechiel Leiter describing a two-hour, 'wonderful' exchange and saying both sides are 'on the same side' in opposing Iran-backed Hezbollah; Lebanese Ambassador Nada Hamadeh also attended the meeting and the talks were mediated by US officials. The engagement drew immediate security developments: Hezbollah reportedly fired rockets at northern Israel as the meeting began on Tuesday, and on Apr 15 Israeli officials declined to commit to a ceasefire, stressing protection of civilians; by Apr 16 US officials clarified that any ceasefire was not tied to separate Iran negotiations and described the process as focused on confidence-building measures.
Prepared by Rachel Morgan and reviewed by editorial team.
یہ بات چیت آپ کی حفاظت کو متاثر کر سکتی ہے۔ اگر کامیاب ہوئیں، تو یہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کو کم کر سکتی ہیں، جو بالواسطہ طور پر امریکہ کو محفوظ بنا سکتی ہیں۔ ان مذاکرات کے بارے میں خبروں پر نظر رکھیں۔ اگر آپ کا کوئی خاندان فوج میں ہے، تو یہ ان کی تعیناتی کو متاثر کر سکتا ہے۔
امریکہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن ساز کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ابھی ابتدائی مراحل ہیں، لیکن پیش رفت ہو رہی ہے۔ یہ بات چیت فوری حل کے بجائے اعتماد سازی کے بارے میں ہے۔ اگر آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو بین الاقوامی تعلقات میں دلچسپی رکھتا ہے تو اسے آگے بھیجنا قابل قدر ہے۔
امریکی سفارت کاروں اور مذاکرات کاروں کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہ راست بات چیت کی سہولت کے لیے ایک سفارتی موقع ملا۔
شمالی اسرائیل اور جنوبی لبنان میں شہریوں نے بات چیت کے دوران راکٹ حملوں اور امن و امان کی مسلسل خلل کا تجربہ کیا۔
No left-leaning sources found for this story.
اسرائیلی اور لبنانی سفیروں کی امریکی محکمہ خارجہ میں براہ راست ملاقات؛ حزب اللہ کے راکٹ حملے
CNA New Visionاسرائیلی سفیر نے لبنان کے ساتھ "شاندار" ملاقات کا خیرمقدم کیا، مستقبل کے تعلقات کی امید ظاہر کی لیکن جنگ بندی کو مسترد کر دیا۔
Asian News International (ANI) Social News XYZ
Comments