امریکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی میٹنگ سے قبل فلسطینی آزادی تنظیم (پی ایل او) اور فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کے ارکان کو ویزا دینے سے انکار کر رہا ہے۔ ریاستی محکمہ کا کہنا ہے کہ یہ پی اے کی کارروائیوں کی وجہ سے ہے، جس میں فلسطینی ریاست کی منظوری حاصل کرنا اور دہشت گردی کی اشتعال انگیزی شامل ہے۔ یہ اقدام امریکہ کو اسرائیل کی حکومت کے ساتھ جوڑتا ہے، جو فلسطینی ریاست کو مسترد کرتی ہے اور پی اے کو حماس کے برابر سمجھتی ہے۔ اس فیصلے سے پی اے کے صدر محمود عباس متاثر ہوئے ہیں، جن کا ارادہ اسمبلی سے خطاب کرنے کا تھا۔ اقوام متحدہ نے فلسطینی نمائندگی پر اس کے اثرات کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ اسرائیل نے امریکی کارروائی کی تعریف کی ہے۔ غزہ میں جاری تنازعہ، جس نے انسانی بحران پیدا کیا ہے، اس فیصلے کا پس منظر ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ دیگر افسران کے لیے ویزا دینے سے انکار کرنے کے باوجود فلسطینی مشن کو شرکت کی اجازت دے کر اقوام متحدہ کے معاہدوں کی تعمیل کر رہا ہے۔
Prepared by Lauren Mitchell and reviewed by editorial team.
Comments