تل ابیب — اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے منگل کو اعلان کیا کہ اسرائیل امریکی مالی امداد کے خاتمے کی کوشش کرے گا، یہ کہتے ہوئے کہ ملک کو اب امریکی امداد کی ضرورت نہیں ہے اور اسے 'بھلائی' کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے گھریلو محصولات پر انحصار کرنے کے منصوبوں کا خاکہ پیش کیا، 'ہمارے جی ڈی پی کا معمولی سا فیصد' کا حوالہ دیتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ عمل اسی سال شروع ہو۔ اس اعلان میں فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف ان کی حکومت کی مخالفت کا اعادہ بھی شامل تھا، یہ کہتے ہوئے کہ 'اسرائیل یہودی قوم کا وطن ہے۔' اس ہفتے اسرائیلی حکام، امریکی پالیسی سازوں اور علاقائی شراکت داروں کے بجٹ، دفاع اور سفارتی مضمرات کا جائزہ لیں گے کیونکہ حکومت طویل المدتی امدادی انتظامات کو تبدیل کرنے اور مالی خودمختاری کے حصول کے ارادے کا اشارہ دے رہی ہے۔
Prepared by Lauren Mitchell and reviewed by editorial team.
یہ اقدام امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کو بدل سکتا ہے۔ یہ امریکہ کی خارجہ پالیسی اور دفاعی اخراجات کو متاثر کر سکتا ہے۔ اپنے نمائندوں کے رد عمل کا جائزہ لیں۔ ان کا موقف مستقبل کے انتخابات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کی مالی آزادی کی کوشش ایک بڑی تبدیلی ہے۔ یہ مشرق وسطیٰ کی سیاست اور امریکی امداد کی پالیسیوں کو نئے سرے سے تشکیل دے سکتی ہے۔ اگر آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو بین الاقوامی تعلقات میں دلچسپی رکھتا ہے تو اسے فارورڈ کرنے کے لائق ہے۔
اسرائیلی حکومت کے وزیراعظم نتن یاہو اگرچہ بیرونی امداد میں کمی یا اس کے مکمل خاتمے کی صورت میں مالی خود مختاری اور بجٹ سازی کے معاملات میں زیادہ ملکی کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں، تاہم ان کے اس بیان کے مطابق کہ اسرائیل رواں سال سے خود اپنی مالی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔
امریکہ کو مالی امداد کے ذریعے اسرائیلی پالیسی پر اپنا اثر و رسوخ کم نظر آ سکتا ہے، اور فلسطینیوں کو ریاست کے حصول کے امکانات خراب نظر آ سکتے ہیں کیونکہ نتن یاہو نے اسی بیان میں فلسطینی ریاست کے خلاف اپنی مخالفت دہرائی تھی۔
No left-leaning sources found for this story.
اسرائیل امریکی امداد ختم کرنے کا خواہاں، وزیر اعظم نیتن یاہو کا اعلان
Asian News International (ANI) The Tribune Kenya Star'امریکی امداد بند کرنا چاہتے ہیں': نتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اب امریکی مدد کی ضرورت نہیں
Republic World
Comments