اسلام آباد میں تقریباً ایک ہفتے سے سخت سیکیورٹی ہے۔ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے، حالانکہ فی الحال اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ دونوں فریق ملیں گے۔ 24 اپریل 2026 کو، حکام نے دارالحکومت جانے والی اہم سڑکوں کو بند کرنا اور ریڈ زون انتظامی ضلع کے ارد گرد سخت ناکہ بندی برقرار رکھنا جاری رکھا۔ قریبی بلیو ایریا میں، بازار اور بس ٹرمینلز بڑی حد تک بند ہیں، جس کی وجہ سے کیفے میں سپلائی کی کمی اور مسافروں کے پھنس جانے کی صورتحال ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت کوئی بھی وفد آتا ہے تو لاک ڈاؤن جاری رہے گا۔
Prepared by Lauren Mitchell and reviewed by editorial team.
اسلام آباد میں لاک ڈاؤن عالمی امن مذاکرات پر اثر انداز ہوتا ہے، جس کا امریکہ کی خارجہ پالیسی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اگر آپ بین الاقوامی تعلقات میں دلچسپی رکھتے ہیں یا علاقے میں آپ کا خاندان ہے، تو یہ ایک اہم معاملہ ہے۔ تازہ ترین خبروں پر نظر رکھیں۔
اسلام آباد میں صورتحال غیر مستحکم ہے، امریکہ-ایران مذاکرات کے لیے کوئی مصدقہ شیڈول نہیں ہے۔ شہر ہائی الرٹ پر ہے، جو مقامی لوگوں کی روزمرہ کی زندگی کو متاثر کر رہا ہے۔ اگر آپ اس علاقے میں کسی کو جانتے ہیں، تو ان سے رابطہ کرنا مناسب ہوگا۔ جو لوگ عالمی سیاست پر نظر رکھے ہوئے ہیں، ان تک یہ پیغام فارورڈ کریں۔
No left-leaning sources found for this story.
امریکہ-ایران کے امن مذاکرات کی کوئی امید نہیں، لیکن اسلام آباد نے سیکیورٹی لاک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے
JQJONo right-leaning sources found for this story.
Comments