واشنگٹن، ڈی سی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2 اپریل کو اٹارنی جنرل پام بونڈی کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا اور قائم مقام اٹارنی جنرل کے طور پر ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچے کو مقرر کیا؛ وائٹ ہاؤس کے عہدیداروں نے بونڈی کی کارکردگی سے بڑھتی ہوئی مایوسی کا حوالہ دیا، بشمول جیفری ایپسٹین سے متعلق تحقیقاتی فائلوں کو سنبھالنے کا طریقہ۔ اس برطرفی نے محکمہ انصاف میں فوری طور پر قیادت کی تبدیلی کو جنم دیا؛ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بونڈی کی تعریف کی اور کہا کہ وہ نجی شعبے کے کردار میں منتقل ہوں گی، جبکہ رپورٹوں میں ممکنہ متبادل کے بارے میں پہلے ہونے والی نجی بات چیت اور اس ہفتے ایپسٹین سے متعلق ریکارڈز کو محکمہ انصاف کے ہینڈلنگ کے بارے میں دوبارہ جانچ کا ذکر کیا گیا۔
Prepared by Lauren Mitchell and reviewed by editorial team.
یہ تبدیلی جسٹس ڈیپارٹمنٹ کے مقدمات کو سنبھالنے کے طریقے کو متاثر کر سکتی ہے۔ خاص طور پر جیفری ایپسٹین سے جڑے معاملات۔ اگر آپ ایپسٹین کے معاملے کی پیروی کر رہے ہیں، تو DOJ کے طریقہ کار میں کسی بھی تبدیلی پر نظر رکھیں۔
صدر ٹرمپ بونڈی کی کارکردگی سے خوش نہیں تھے۔ اب ٹوڈ بلانچ انچارج ہیں۔ وہ محکمہ انصاف میں ایک مختلف انداز لا سکتے ہیں۔ اس پر نظر رکھیں کہ یہ کیسے ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو ایپسٹین کیس میں دلچسپی رکھتا ہے تو یہ فارورڈ کرنے کے لائق ہے۔
ٹڈ بلانش نے قائم مقام اٹارنی جنرل کا عہدہ سنبھالا اور اس طرح فوری طور پر محکمہ انصاف کی قیادت کا اختیار حاصل کر لیا؛ وائٹ ہاؤس نے بھی اپنے اہلکاروں کے فیصلوں کے مطابق قیادت میں تبدیلی حاصل کی۔
پام بانڈی 2 اپریل کو جیفری ایپسٹین سے متعلقہ فائلوں کے ہینڈلنگ پر تنقید کے باعث امریکی اٹارنی جنرل کے عہدے سے فارغ ہوگئیں، اور محکمہ انصاف کو ادارہ جاتی آزادی کے بارے میں نئے سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔
Trump fires Attorney General Pam Bondi amid criticism over Epstein files handling
ThePrintٹرمپ کا اٹارنی جنرل کو ہٹانا، نئی تعیناتی اور قانونی فائل کا معاملہ
https://www.witn.com The Spokesman Review WBRZ INFORUM The Sydney Morning Herald The Straits Times Spectrum News Bay News 9 CBS Newsٹرمپ نے پام بونڈی کی جگہ اٹارنی جنرل کے طور پر ٹوڈ بلینش کو فی الحال مقرر کر دیا
WXLV UnionLeader.com
Comments