غزہ میں ہزاروں خاندان جنگ کے آغاز کے بعد سے لاپتہ ہونے والے رشتہ داروں کو بے چینی سے تلاش کر رہے ہیں، جن کی قسمت نامعلوم ہے اور لاپتہ افراد کا کوئی واضح حساب کتاب نہیں۔ بہت سے افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ دیگر اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران لاپتہ ہو گئے، جن میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔ لاپتہ افراد کے لیے بین الاقوامی کمیشن باقیات کی شناخت میں آنے والی شدید دشواری اور ڈی این اے ٹیسٹنگ جیسے بنیادی وسائل پر پابندیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ اسرائیلی حکام کی طرف سے شفافیت کی کمی خاندانوں کے لیے اپنے پیاروں کی تلاش اور ان کی واپسی میں مزید تکلیف کا باعث بنتی ہے۔
Prepared by Emily Rhodes and reviewed by editorial team.
Comments