اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو 80ویں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں ملے جلے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، جہاں درجنوں افراد نے ہنگامہ آرائی کے دوران واک آؤٹ کر دیا، جبکہ دیگر نے تالیاں بجائیں۔ نیتن یاہو سے غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کا پرجوش دفاع کرنے اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے اتحادیوں پر تنقید کرنے کی توقع ہے، جو ان کی انتخابی بنیاد کو نشانہ بنائے گا۔ یہ تقریر ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اسرائیل کو غزہ تنازعہ اور مغربی کنارے کے الحاق کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنہائی اور دباؤ کا سامنا ہے، جس میں امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین جیسے اہم اتحادی بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
Prepared by Rachel Morgan and reviewed by editorial team.
Comments