سعودی عرب اور پاکستان نے باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس میں کسی ایک ملک پر حملے کو دونوں ملکوں پر حملہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ اسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائی کے بعد ہوا ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کا مقصد مشترکہ روک تھام کو مضبوط کرنا ہے۔ اگرچہ اس معاہدے میں جوہری ہتھیاروں کا خاص طور پر ذکر نہیں کیا گیا ہے، لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کے جوہری اسلحے کو اس میں ضمنی طور پر شامل سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کا وقت اسرائیل کے لیے ایک پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور اس معاہدے سے بعض ماہرین، جن میں سابق امریکی سفیر زلمے خلیل زاد بھی شامل ہیں، تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، کیونکہ اس میں پاکستان کی جوہری صلاحیتوں کے مضمرات شامل ہیں۔
Prepared by Rachel Morgan and reviewed by editorial team.
Comments