اسرائیلی جنگجو طیاروں نے سرخ سمندر سے بالستک میزائل داغے، جن کا نشانہ دوحا، قطر میں موجود حماس کے رہنما تھے۔ 9 ستمبر کو ہونے والے اس حملے میں چھ افراد ہلاک ہوئے، جس میں قطری فضائی دفاع کو نظرانداز کرنے اور دیگر ممالک کے فضائی حدود میں داخل ہوئے بغیر ایک نئی تکنیک استعمال کی گئی۔ اس حیران کن حملے میں تقریباً 10 طیاروں اور میزائلوں کے استعمال کا امکان ہے، جس سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور مستقبل میں ہونے والے ممکنہ حملوں کے بارے میں خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، حملے کے بعد امریکہ کو آگاہ کر دیا گیا تھا، جبکہ اسرائیل تفصیلات پر خاموش ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ میزائل گولڈن ہورائزن یا سپارو کے مختلف ورژن ہو سکتے ہیں، ممکنہ طور پر غیر فعال وار ہیڈ کے ساتھ۔
Prepared by Rachel Morgan and reviewed by editorial team.
Comments