امریکی سپریم کورٹ صدر ٹرمپ کے ٹیرف کا جائزہ لے رہی ہے، جنہیں نچلی عدالتوں نے غیر قانونی قرار دیا تھا۔ خزانہ کا اندازہ ہے کہ ٹیرف کو کالعدم قرار دینے سے حکومت کو پہلے ہی جمع شدہ آمدنی میں 750 بلین ڈالر سے لے کر ایک ٹریلین ڈالر تک کا نقصان ہو سکتا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اقتصادی نتائج کو عدالت کے آئینی فیصلے کو متاثر نہیں کرنا چاہیے، اس پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے کہ کیا صدر نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے۔ سال کے آخر سے پہلے فیصلے کی توقع ہے، جس میں غیر آئینی ٹیکسوں پر سپریم کورٹ کے ماضی کے فیصلوں کی طرح رقم کی واپسی کا عمل بھی شامل ہو سکتا ہے۔
Prepared by Christopher Adams and reviewed by editorial team.
Comments