دوحہ، قطر میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملے کے بعد، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی رہنماؤں نے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ بین الاقوامی معیارات کی خلاف ورزی کرنے والے اس اقدام نے خلیجی ممالک میں اس خدشے کو جنم دیا ہے کہ امریکہ اپنا تحفظاتی کردار چھوڑ دے گا۔ اس واقعے سے امریکہ کی علاقائی ترجیحات کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے، جس میں ابراہیم معاہدے اور چین اور روس کے اثر و رسوخ کے خلاف کوششیں شامل ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ نے اس حملے سے خود کو الگ کر لیا، لیکن اسرائیل کے اقدامات کی جانب سے امریکہ کی بے لوث حمایت سے خلیجی ممالک میں غصہ اور عدم یقینی بڑھ رہا ہے جو مستقبل کے امریکی خلیجی تعلقات اور اسرائیل کے ساتھ ممکنہ معمول سازی کے معاہدوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
Prepared by Lauren Mitchell and reviewed by editorial team.
Comments