اسرائیل کے دوحا کے ایک مضافاتی علاقے پر حملے، جس میں ایک قطری سکیورٹی افسر اور ایک حماس مذاکرات کار کے بیٹے سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے، کو قطر نے "ریاستی دہشت گردی" قرار دے کر مذمت کی ہے۔ یہ حملہ، جو جلاوطنی میں مقیم حماس رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا تھا، غزہ میں جاری جنگ بندی مذاکرات کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ قطر، جو اس تنازع میں ثالث اور حماس رہنماؤں کا میزبان ملک اور ایک بڑا امریکی فوجی اڈہ ہے، کو اس حملے کی قبل از وقت کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ اسرائیلی حکومت نے اس کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد حماس رہنماؤں کو ختم کرنا تھا۔ اس واقعے نے امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور قطر کے جاری ثالثی کے کردار پر شک پیدا کر دیا ہے۔
Prepared by Rachel Morgan and reviewed by editorial team.
Comments