صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ پچھلے واقعات کے باوجود پوتن اور زیلینسکی کے ساتھ تین اطراف کی ملاقات اب بھی ممکن ہے ۔انہوں نے پہلے پوتن اور زیلینسکی کے درمیان دوطرفہ مذاکرات کرنے کا ارادہ کیا تھا جس میں وہ خود بھی شامل ہوں گے لیکن اب وہ اس بارے میں کم امیدوار ہیں۔ تاہم زیلینسکی روس کی جانب سے تعمیری تعاون کی کمی پر مایوس ہیں اور رہنماؤں کی فوری شمولیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ روس یوکرین میں اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے اور علاقائی فتوحات کا دعویٰ کر رہا ہے جبکہ یوکرین روسی حملوں سے سنگین نقصانات کی اطلاع دے رہا ہے جس میں کیئف پر حالیہ مہلک حملہ بھی شامل ہے۔ ان جاری دشمنیوں کے باوجود کریملن امن مذاکرات میں دلچسپی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
Prepared by Lauren Mitchell and reviewed by editorial team.
Comments