امریکہ نے فلسطینی صدر محمود عباس اور دیگر 80 افسران کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں، جس سے ان کی آنے والی اقوام متحدہ کی میٹنگز میں شرکت روک دی گئی ہے۔ یہ کارروائی، فلسطینیوں کو نشانہ بنانے والی وسیع امریکی پالیسی کا حصہ ہے، جس سے فلسطینی اتھارٹی اور فرانس اور سپین جیسے بین الاقوامی اتحادیوں میں شدید غصہ پایا گیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کی اقوام متحدہ کی غیر جانبداری کی خلاف ورزی کے طور پر مذمت کی اور امریکہ سے اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا، خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ اور اقوام متحدہ میں فلسطینی نمائندگی کی اہمیت کا حوالہ دیا۔ یہ فیصلہ اسراییل کی جانب سے غزہ شہر کو جنگی علاقہ قرار دینے کے بعد آیا ہے۔
Prepared by Lauren Mitchell and reviewed by editorial team.
Comments