لسا کک، جو فیڈرل ریزرو بورڈ میں پہلی سیاہ فام خاتون ہیں، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ان کی برطرفی کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں۔ ایک جج نے ان کی برطرفی کو روکنے کے لیے عارضی طور پر حکم امتناع کے حوالے سے دلائل سنے، لیکن فوری طور پر کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے رہن کے فراڈ کے الزامات کا حوالہ دیا ہے، جسے کک نے مسترد کر دیا ہے۔ اس کیس میں فیڈرل ریزرو کی آزادی اور ٹرمپ کی جانب سے بورڈ کی تشکیل اور مستقبل کے شرح سود کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت شامل ہے۔ کک کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ الزامات بے بنیاد اور سیاسی طور پر متحرک ہیں۔ اس کے نتیجے میں فیڈ کی خود مختاری پر نمایاں اثر پڑے گا۔
Prepared by Lauren Mitchell and reviewed by editorial team.
Comments