چین اور طالبان کے درمیان 540 ملین ڈالر کے تیل کے معاہدے دو سال بعد ناکام ہوگیا۔ افغانی حکام نے چینی کمپنی پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور سرمایہ کاری میں کمی اور رائلٹی کی عدم ادائیگی کا ذکر کیا۔ چینی ملازمین کا دعویٰ ہے کہ طالبان نے زبردستی تیل کے میدانوں پر قبضہ کر لیا، 12 چینی کارکنوں کو حراست میں لیا اور ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے دورے کے بعد نو افراد کو رہا کر دیا گیا، تاہم یہ واقعہ افغانستان میں کاروبار کرنے کی مشکلات اور چین اور طالبان کے تعلقات کی پیچیدگیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس ناکامی کے باوجود، دونوں اطراف کا مقصد وسیع تر سفارتی تعلقات کو برقرار رکھنا ہے۔
Prepared by Rachel Morgan and reviewed by editorial team.
Comments