انڈونیشیا میں قانون سازوں کے الاؤنسز کے خلاف طلباء کے مظاہروں کے دوران پولیس کی ایک زره پوش گاڑی کے نیچے ایک ڈلیوری ڈرائیور کی ہلاکت کی خبر کے بعد وسیع پیمانے پر احتجاج دیکھے گئے۔ یہ واقعہ، جو ویڈیو میں ریکارڈ ہوا، نے عوام میں شدید غصہ پیدا کیا۔ کئی شہروں میں احتجاج پھوٹ پڑے، جس میں پولیس نے آنسو گیس اور پانی کے توپوں کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کیا جنہوں نے پتھر اور فلیئر پھینکے۔ ایک عمارت میں آگ لگا دی گئی۔ سات پولیس افسران کو حراست میں لیا گیا ہے، لیکن ڈرائیور کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔ صدر پرابوو سبانٹو نے امن و امان کی اپیل کی اور افراطِ زر کے استعمال کی تحقیقات کا حکم دیا۔ یہ احتجاج قانون سازوں کے اعلیٰ ہاؤسنگ الاؤنسز پر عوام کے غصے کی وجہ سے شروع ہوئے تھے۔
Prepared by Rachel Morgan and reviewed by editorial team.
Comments