یوکرین نے اب اپنے ملک میں تیار کردہ طویل المدتی ہتھیار حاصل کر لیے ہیں، جس سے وہ امریکہ کی کوئی مدد لیے بغیر روس کے اندر گہرائی میں حملے کر سکتے ہیں۔ صدر زیلینسکی نے اس اہم تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس سے مغربی نظاموں جیسے کہ ATACMS پر انحصار ختم ہو گیا ہے، جس کے لیے روسی سرزمین پر حملوں کی منظوری کے لیے امریکہ کی اجازت درکار تھی۔ یہ پیش رفت یوکرین کی فوجی صلاحیتوں میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے، جس سے روسی اہداف کے خلاف زیادہ آزادانہ کارروائی کی اجازت ملتی ہے۔ یوکرین کا نیا فلیمنگو میزائل، جس کی حد 1800 میل ہے، اس صلاحیت کا ایک اہم جزو ہے۔
Prepared by Rachel Morgan and reviewed by editorial team.
Comments