ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکی ہجرت کے قوانین میں تبدیلیوں کے نتیجے میں مختلف صنعتوں، خاص طور پر مینوفیکچرنگ میں غیر ملکی مزدوروں کا نقصان ہوا ہے۔ کیوبا، ہیٹی، نکاراگوا اور وینزویلا جیسے ممالک کے ہزاروں غیر ملکی باشندے، جنہیں پہلے عارضی تحفظ کا درجہ یا ضمانت دی گئی تھی، نے اپنی ملازمت کی اجازت کھو دی ہے، جس سے کمپنیاں اہم کرداروں کو پُر کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ اس سے باقی ملازمین پر کافی دباؤ پڑا ہے اور مستقبل میں افرادی قوت کی کمی کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے ہیں، خاص طور پر ان شعبوں میں جہاں ملازمین کی عمر بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ کچھ کمپنیوں کے پاس متبادل منصوبے ہیں، لیکن اچانک رخصتیوں سے عدم یقینی پیدا ہوتی ہے اور آپریشن متاثر ہوتے ہیں۔ یہ مسئلہ پالیسی میں تبدیلیوں کے جاری قانونی چیلنجوں سے مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
Prepared by Christopher Adams and reviewed by editorial team.
Comments