ایران نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے امن معاہدے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اس خدشے سے کہ اس سے اس کی سرحدوں کے قریب غیر ملکی اثر و رسوخ میں اضافہ ہوگا۔ واشنگٹن میں امریکی کنسورشیم کی جانب سے کرائے گئے اس معاہدے کے تحت ایران کی سرحد پر ایک اسٹریٹجک راہداری کا کنٹرول آذربائیجان کو دیا گیا ہے، جو اسے اس کے نخچیوان ایکس کلیو سے جوڑتا ہے۔ یہ راہداری، جو 99 سال تک آرمینیا کی خودمختاری کے تحت چلائی جائے گی، علاقائی طاقت کے توازن کو نمایاں طور پر تبدیل کرتی ہے۔ ایران کے دفتر خارجہ نے غیر ملکی مداخلت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ کچھ مبصرین نے اس معاہدے کو "جغرافیائی سیاسی گھٹن" قرار دیا ہے۔ یہ معاہدہ خطے میں روس کے اثر و رسوخ کو بھی کم کرتا ہے اور آرمینیا کو مغربی اقتصادی اقدامات میں مزید مربوط کرتا ہے۔
Prepared by Rachel Morgan and reviewed by editorial team.
Comments