امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن چین کی جانب سے ایران اور روس سے تیل کی مسلسل خریداری پر بات چیت رک گئی ہے۔ امریکہ نے 100 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی دی ہے، جبکہ چین نے اپنی توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے اپنے حق کا دعویٰ کیا ہے۔ اگرچہ وسیع پیمانے پر تجارتی معاہدے کے لیے خوش گمانی موجود ہے، لیکن تیل کی درآمدوں پر چین کی سرکشی ایک اہم رکاوٹ کی نشاندہی کرتی ہے۔ سکریٹری بیسنٹ نے چین کو 'سخت' مذاکرات کار کہا ہے، لیکن ان کا ماننا ہے کہ معاہدہ ممکن ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ حالیہ پیش رفت کی ممکنہ خرابی کی وجہ سے امریکہ ٹیرف عائد نہ کرے۔ چین کے اقدامات روس اور ایران کے ساتھ اس کی حکمت عملیاتی شراکت داری اور مذاکرات میں اس کے اثر و رسوخ کو ظاہر کرتے ہیں۔
Prepared by Rachel Morgan and reviewed by editorial team.
Comments