جنوبی افریقہ میں یونیورسٹی آف وٹ واٹرسرینڈ نے رائنو کی غیر قانونی شکار سے بچاؤ کے لیے رائسوٹوپ پراجیکٹ شروع کیا ہے جس میں پانچ رائنوز کو ریڈیو ایکٹیو آئیسوٹوپس انجیکٹ کیے گئے ہیں۔ یہ آئیسوٹوپس جانوروں کے لیے نقصان دہ نہیں ہیں اور کسٹم اہلکاروں کو سرحدوں اور ہوائی اڈوں پر رائنو کے سینگوں کا پتہ لگانے میں مدد کرتے ہیں۔ گزشتہ سال کے تجربات میں شپنگ کنٹینرز کے اندر بھی سینگوں کا کامیابی سے پتہ چلا۔ اس منصوبے کا مقصد ملک کی 16,000 رائنو آبادی تک اسے وسعت دینا ہے تاکہ سالانہ تقریباً 500 رائنوز کی غیر قانونی شکار کی روک تھام کی جاسکے جو کہ دنیا بھر میں تقریباً 27,000 کی تعداد میں کم ہو رہی رائنو آبادی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
Prepared by Olivia Bennett and reviewed by editorial team.
Comments