بھارت کی سرکاری تیل کی ریفائنریوں نے روس سے خام تیل کی خریداری کم کردہ قیمتی رعایتوں اور امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے روس کے ساتھ تجارت جاری رکھنے کے خلاف وارننگ کے باعث روک دی ہے۔ یہ اقدام ٹرمپ کی جانب سے بھارتی درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے اور مزید جرمانوں کی دھمکیوں کے بعد آیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی بات چیت رک گئی ہے۔ جبکہ نجی بھارتی کمپنیاں اب بھی روسی تیل خرید رہی ہیں، سرکاری ریفائنریوں کی جانب سے یہ معطلی جو کہ بھارت کی ریفائننگ کی صلاحیت کا 60 فیصد حصہ رکھتی ہیں، تیل کے ذرائع میں مشرق وسطیٰ اور مغربی افریقہ کی جانب ایک اہم تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے۔
Prepared by Christopher Adams and reviewed by editorial team.
Comments