جنوبی افریقی سائنسدانوں نے رائنو کے سینگوں میں غیر نقصان دہ تابکار مادہ انجیکٹ کرنے کے لیے رائسوٹوپ پراجیکٹ شروع کیا ہے تاکہ شکار سے بچا جا سکے۔ یہ اقدام، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون سے، کسٹم حکام کو دنیا بھر میں اسمگل شدہ سینگوں کا آسانی سے پتہ لگانے کی اجازت دیتا ہے۔ چھ سال کی تحقیق اور 20 رائنو پر جانچ کے بعد، اس منصوبے کا مقصد جنوبی افریقہ کی بڑی رائنو آبادی کی حفاظت کرنا ہے، جو سالانہ سینکڑوں شکار کے واقعات کا شکار ہوتی ہے۔ تابکار ٹریسر بڑے شپنگ کنٹینرز میں بھی قابلِ تشخیص رہتا ہے۔
Prepared by Olivia Bennett and reviewed by editorial team.
Comments