ٹرمپ انتظامیہ نے جنوبی کوریا کے ساتھ تجارتی معاہدے میں نظرثانی کا اعلان کیا ہے جس میں درآمدات پر ٹیرف 25 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کر دیا گیا ہے۔ تجارتی مشیر پیٹر ناوارو کا دعویٰ ہے کہ جاپان کے معاہدے کی مثال پر تیار کردہ اس معاہدے سے امریکہ کو نمایاں مالی فوائد حاصل ہوئے ہیں، جن میں جنوبی کوریا کی جانب سے 350 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔ ناوارو نے جنوبی کوریا کی بحری جہاز سازی کی مہارت کو اس معاہدے کے ایک اہم عنصر کے طور پر اجاگر کیا ہے اور اس سرمایہ کاری کی مثال جاپان سے حاصل ہونے والی 550 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری سے دی ہے۔ امریکہ کے ساتھ اپنے بڑے تجارتی فضلے کے باوجود جنوبی کوریا میں اس معاہدے کو کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔
Prepared by Christopher Adams and reviewed by editorial team.
Comments