ٹرمپ انتظامیہ ایک نیا اقدام شروع کر رہی ہے جس کی مدد سے لاکھوں امریکی اپنا صحت کا ڈیٹا نجی ٹیک کمپنیوں کی ایپس پر اپ لوڈ کر سکتے ہیں، جس سے ریکارڈز اور ویلیبس کی نگرانی میں آسانی کی ضمانت دی جا رہی ہے۔ اس اقدام میں گوگل اور ایمیزون جیسی کمپنیاں شامل ہیں، جو ذیابیطس، وزن میں کمی اور اے آئی سے چلنے والے ٹولز پر توجہ مرکوز کرتی ہیں۔ جبکہ حکام مریضوں کی مرضی اور ڈیٹا کی حفاظت کا دعویٰ کرتے ہیں، نقاد حکومت اور نجی اداروں دونوں کی جانب سے ڈیٹا کی رازداری اور اس کے ممکنہ غلط استعمال کے بارے میں سنگین اخلاقی اور قانونی خدشات اٹھا رہے ہیں۔ سی ایم ایس کے زیر انتظام یہ نظام میڈیکیئر ڈاٹ گاو پر صحت سے متعلق ایپس کی بھی سفارش کرے گا، جس سے رازداری کے مزید سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
Prepared by Olivia Bennett and reviewed by editorial team.
Comments