ایران حالیہ اسرائیلی حملوں کے باوجود اپنے علاقائی نائبین کو تقویت دے رہا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بحیرہ احمر میں حوثی حملے، عراق کی تیل پیداوار میں مشکوک ایرانی حمایت یافتہ خلل، اور لبنان میں حزب اللہ کو ہتھیاروں کی روانگی کے روکنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔ جبکہ امریکہ اور ایران ایک نئے جوہری معاہدے پر کم ہی سمجھوتہ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، ایران کے اقدامات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ طاقت کے مقام سے مذاکرات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ نائب سرگرمی ایران کے مسلسل اثر و رسوخ اور لچک کا مظاہرہ کرنے کا مقصد ہے۔
Prepared by Rachel Morgan and reviewed by editorial team.
Comments