ایک ڈیٹا بریک کے نتیجے میں ان افغانوں کی ذاتی معلومات منظر عام پر آگئیں جنہوں نے برطانوی افواج کے ساتھ کام کیا تھا اور برطانیہ میں پناہ کی درخواست دی تھی۔ یہ ممکنہ طور پر برطانوی حکومت کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیٹا رساو ہے جس میں پناہ کی درخواست کی تفصیلات شامل ہیں، جس سے افراد کو طالبان سے سنگین خطرہ لاحق ہے۔ وزارت دفاع نے معافی مانگی ہے اور متاثرین کو اپنی آن لائن سیکورٹی کو بہتر بنانے اور غیر معروف ذرائع سے رابطے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس صورتحال نے متاثرین میں وسیع پیمانے پر خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔
Prepared by Rachel Morgan and reviewed by editorial team.
Comments