روس کی جانب سے یوکرین پر ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس میں زیادہ تر مقامی طور پر تیار کردہ شاہد ڈرون استعمال کیے جا رہے ہیں، جو یوکرین کے دفاعی نظام کو ناکام بنا رہے ہیں۔ یہ ڈرون، اگرچہ مغربی ڈرون کے مقابلے میں کم جدید ہیں، لیکن ان کی تیاری سستی ہے اور یہ یوکرینی فضائی حدود کو بھردیتے ہیں، جس کی وجہ سے مہنگے انٹرسیپٹر میزائل کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف فضائی دفاع پر انحصار کرنے کے بجائے ڈرون تیاری کے مراکز کو نشانہ بنانا اور تیسری پارٹی سپلائرز پر پابندیاں لگانا زیادہ موثر اقدامات ہیں۔ موجودہ پابندیوں کے باوجود، روس اجزاء حاصل کرنا جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے بین الاقوامی پابندیوں کی پیچیدگیاں اور عالمی تجارت پر ان کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔
Prepared by Rachel Morgan and reviewed by editorial team.
Comments