صدر ٹرمپ نے 14 ممالک پر 25% سے 40% تک نئے ٹیرف عائد کر دیئے ہیں، جو 1 اگست سے نافذ ہو گئے ہیں۔ اگرچہ اس اعلان نے ابتدائی طور پر تشویش پیدا کی، لیکن عالمی مارکیٹوں کا ردِعمل معمولی رہا، اور بعض انڈیکسز میں اضافہ بھی ہوا۔ تجزیہ کار اس کی وجہ ٹرمپ کا لچکدار رویہ قرار دیتے ہیں، اور یہ تجویز کرتے ہیں کہ آخری تاریخوں میں تبدیلی ممکن ہے اور مذاکرات کی امید ہے۔ معمولی ردِعمل کی ایک اور وجہ یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان آنے والے تجارتی معاہدے کی امیدواری بھی ہے، جس سے یورپی سامان پر زیادہ ٹیرف لگانے سے بچا جا سکتا ہے۔ تاہم، ٹیرف کے حتمی اثرات اور وقت کے بارے میں عدم یقینی برقرار ہے۔
Prepared by Christopher Adams and reviewed by editorial team.
Comments