اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے 12 روزہ فوجی مہم کے بعد، جس میں ایران کے جوہری مراکز کو نشانہ بنایا گیا، ایران نے IAEA کے ساتھ تعاون معطل کر دیا ہے اور اپنے جوہری مقامات سے معائنہ کاروں کو روک دیا ہے۔ یہ اقدام، جبکہ کشیدگی میں اضافہ کرتا ہے، اسلامی جمہوریہ کے اندر ایک گہرے بحران کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ تین اہم شکستیں—عوامی بغاوت، شام میں پسپائی، اور حالیہ فوجی حملے— نے حکومت کے نظریاتی کنٹرول، علاقائی اثر و رسوخ اور فوجی بازدارندگی کو شدید کمزور کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں اندرونی اختلاف اور بین الاقوامی تنہائی ایک ممکنہ زوال کی علامت ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ میں ایک ممکنہ طور پر تبدیلی لانے والی تبدیلی کا راستہ ہموار ہو رہا ہے۔
Prepared by Rachel Morgan and reviewed by editorial team.
Comments