سائنسدان مصنوعی طور پر انسانی ڈی این اے بنانے کے ایک متنازعہ منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد مختلف بیماریوں کے لیے نئے علاج تیار کرنا ہے۔ اس اقدام میں لیبارٹری میں انسانی ڈی این اے کے بڑے حصے بنانا اور انہیں خلیوں میں داخل کرنا شامل ہے تاکہ ان کے کام کا مطالعہ کیا جا سکے۔ اگرچہ خودکار مدافعتی امراض اور عمر سے متعلق بیماریوں کے علاج میں ممکنہ کامیابیوں کا وعدہ کرتا ہے، لیکن یہ منصوبہ حیاتیاتی ہتھیاروں یا 'ڈیزائنر بچوں' کے غلط استعمال کے حوالے سے اخلاقی خدشات پیدا کرتا ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر یہ ٹیکنالوجی غلط ہاتھوں میں چلی جاتی ہے تو تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے طبی فوائد کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور حفاظتی پہلوؤں پر محتاط غور کرنے کی ضرورت ہے۔
Prepared by Olivia Bennett and reviewed by editorial team.
Comments