امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کے جوہری مراکز پر حملے کیے گئے، جس پر روس نے مذمت کی لیکن ایران کو کوئی فوجی مدد نہیں دی، جس سے تہران مایوس ہو گیا۔ تجزیہ کار اس غیر جانبدارانہ ردِعمل کی وجہ روس کے مشرقِ وسطیٰ میں کم ہوئے اثر و رسوخ اور اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کے توازن کو قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ روس کو تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور یوکرین سے مغربی توجہ کے انحراف سے فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن ایران کی حمایت نہ کرنے سے خطے میں ایک قابلِ اعتماد اتحادی کے طور پر اس کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کے باوجود، روس مشرقِ وسطیٰ میں حکمت عملیاتی شراکت داری تلاش کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔
Prepared by Rachel Morgan and reviewed by editorial team.
Comments