نیچر میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق عالمی سطح پر اگلے بڑے آتش فشاں کے پھٹنے کے لیے تیاری کی عدم موجودگی کی جانب اشارہ کرتی ہے، جس سے غیر معمولی موسمیاتی انتشار کا خدشہ ہے۔ 1815ء میں ٹامبورا کے آتش فشاں کے پھٹنے جیسے تاریخی واقعات سے نمایاں ٹھنڈک اور وسیع پیمانے پر تباہی رونما ہوئی تھی۔ اس صدی میں اس طرح کے واقعے کے امکانات چھ میں سے ایک ہیں، جس سے پہلے سال میں 3 ٹریلین ڈالر سے زائد اقتصادی نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتی ہے، جس سے فضا کے حالات اور سمندری نظام میں تبدیلی آتی ہے۔ سائنسدانوں نے آتش فشاں کے اثرات اور زراعت پر پڑنے والے اثرات کو شامل کرتے ہوئے بہتر موسمیاتی ماڈلز تیار کرنے کی زور دار اپیل کی ہے تاکہ ناگزیر واقعے کے لیے بہتر تیاری کی جاسکے۔
Prepared by Olivia Bennett and reviewed by editorial team.
Comments