سائنسدانوں نے جنگلی نیماٹوڈز کو اونچے اونچے ڈھانچے بناتے ہوئے دیکھا ہے، یہ رویہ پہلے صرف لیب کی سیٹنگ میں دیکھا گیا تھا۔ جرمنی کے محققین نے مختلف نیماٹوڈ کی اقسام کو سڑے ہوئے پھلوں کو بنیاد بنا کر یہ زندہ ٹاور بناتے ہوئے فلمایا ہے۔ یہ ٹاور، جو ایک ہی نوع کے نیماٹوڈز سے بنتے ہیں، پھیلاؤ کا ایک ذریعہ ہیں، کیونکہ کیڑے ان سے گزرنے والے جانوروں سے لگ کر سفر کرتے ہیں۔ جبکہ یہ ٹاور ایک سپر آرگنیزم کی طرح کام کرتے ہیں، لیکن اس ڈھانچے میں انفرادی کرداروں اور ٹاور تعمیر کو متاثر کرنے والے جینیاتی عوامل کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ یہ دریافت قدرتی ماحول میں جانداروں کی مطالعہ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
Prepared by Olivia Bennett and reviewed by editorial team.
Comments