نیو یارک ٹائمز، بیورو آف انویسٹی گیٹو جرنلزم، اور ڈیر شپیگل کی مشترکہ تحقیقات سے چین کی فیکٹریوں میں وسیع پیمانے پر اویغوروں کی جبری مشقت کا انکشاف ہوا ہے۔ اویغوروں کو سنکیانگ سے چین بھر کی مختلف فیکٹریوں میں منتقل کیا جاتا ہے، جہاں وہ متعدد بین الاقوامی برانڈز کے لیے سامان تیار کرتے ہیں۔ یہ دریافت سپلائی چین میں جبری مشقت کے خلاف عالمی کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج پیش کرتی ہے، کیونکہ اس عمل کا پیمانہ پہلے سمجھے جانے والے پیمانے سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
Prepared by Rachel Morgan and reviewed by editorial team.
Comments