ترقی پذیر ممالک کو 2025ء میں چین کو ریکارڈ 22 بلین ڈالر کی قرض کی ادائیگی کا سامنا ہے، جو بنیادی طور پر بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) سے وابستہ قرضوں سے پیدا ہوئی ہے۔ یہ بڑی رقم صحت اور تعلیم پر اہم سرکاری اخراجات کو خطرے میں ڈالتی ہے۔ اگرچہ چین کی جانب سے نئی قرض رسانی میں کمی آرہی ہے، لیکن کچھ ممالک، خاص طور پر وہ جو چین کو سفارتی تسلیم تبدیل کر رہے ہیں یا معدنیات سے مالا مال ہیں، اب بھی قرضے حاصل کر رہے ہیں۔ لوئی انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ ترقی پذیر معیشتوں پر پڑنے والے دباؤ کو اجاگر کرتی ہے، لیکن دوسرے ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی قرض دہندگان کو دیا گیا قرض بہت زیادہ ہے، جس سے صورتحال کا تناظر سامنے آتا ہے۔ رپورٹ میں چین کے ممکنہ جیو پولیٹیکل اثر و رسوخ کے بارے میں بھی خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔
Prepared by Christopher Adams and reviewed by editorial team.
Comments