امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی معاہدے نے عارضی طور پر ٹیرف میں کمی کر دی ہے، جس سے مارکیٹ میں اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ چینی مصنوعات پر اپنی ٹیرف کی شرح 145 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کر دے گا، جبکہ چین امریکی مصنوعات پر اپنی شرح 125 فیصد سے کم کر کے 90 دنوں کے لیے 10 فیصد کر دے گا۔ وال اسٹریٹ کے تجزیہ کار محتاط خوشگوار ی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس معاہدے سے مانی کے خطرات کم ہو گئے ہیں لیکن افراط زر کے دباؤ برقرار ہیں۔ جبکہ کچھ لوگ اقتصادی ترقی کی پیش گوئی کرتے ہیں، دوسروں نے جاری عدم یقینی اور مزید مذاکرات کی امکانات سے آگاہ کیا ہے۔ اس معاہدے کو مثبت قدم سمجھا جا رہا ہے، لیکن اس کے طویل مدتی اثرات کا اندازہ ابھی نہیں لگایا جا سکتا۔
Prepared by Christopher Adams and reviewed by editorial team.
Comments