جنووا میں امریکی اور چینی وفود کے درمیان 10 گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد ٹیرف کے بارے میں بات چیت اختتام پذیر ہوئی، جس میں فوری طور پر کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی۔ تجارتی تناؤ کو کم کرنے کے لیے کیے گئے ان مذاکرات کا دوبارہ آغاز اتوار کو ہوگا۔ اگرچہ کسی بڑی پیش رفت کے امکانات کم لگ رہے ہیں، لیکن دونوں اطراف عالمی منڈی میں خلل کو کم کرنے کے لیے ٹیرف میں کمی کی امید کر رہے ہیں۔ اس گفتگو میں امریکی خزانہ سیکریٹری سکاٹ بیسنٹ اور چینی نائب وزیر اعظم ہی لی فینگ شامل تھے۔ دونوں ممالک کی جانب سے عائد کیے گئے اعلیٰ ٹیرف نے دو طرفہ تجارت پر نمایاں اثر ڈالا ہے، جو سالانہ 660 بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔
Prepared by Christopher Adams and reviewed by editorial team.
Comments