سائنسدانوں نے مغربی آسٹریلیا میں 4.4 بلین سال پرانا زرکن کرسٹل دریافت کیا ہے، جو زمین کی سب سے پرانی جانے والی پرت کا ٹکڑا ہے۔ یہ چھوٹا سا کرسٹل، جو نظام شمسی کی پیدائش کے صرف 160 ملین سال بعد تشکیل پایا تھا، بتاتا ہے کہ زمین کی سطح پہلے تصور سے کہیں زیادہ جلدی جم گئی تھی اور اس پر پانی اور زندگی کی موجودگی ممکن ہوئی ہوگی۔ یہ دریافت 'جہنم نما' ابتدائی زمین کے نظریے کو چیلنج کرتی ہے، جس سے تیز رفتار ٹھنڈا ہونے اور استحکام کے دور کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اس دریافت کے زمین پر زندگی کے ظہور اور دیگر سیاروں کی رہائش پذیر صلاحیت کو سمجھنے کے لیے اہم نتائج ہیں۔
Prepared by Olivia Bennett and reviewed by editorial team.
Comments