صدر ٹرمپ نے چند گھنٹے قبل متعدد ممالک پر عائد کردہ نئی درآمدی ٹیرف کو عارضی طور پر معطل کر دیا، جس سے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں میں الجھن پیدا ہو گئی۔ ٹرمپ کی ابتدائی ٹیرف کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں کمی کے بعد یہ فیصلہ، کچھ لوگوں کی نظر میں مارکیٹ کے دباؤ کا ردعمل ہے نہ کہ ایک سوچی سمجھی مذاکراتی حکمت عملی۔ اگرچہ 90 دن کی معطلی عارضی راحت فراہم کرتی ہے، لیکن تجارتی پالیسی میں غیر مستحکم تبدیلیاں عدم یقینی پیدا کرتی رہتی ہیں اور عالمی اقتصادی استحکام کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ٹرمپ نے چینی درآمدات پر ٹیرف بڑھا کر 125 فیصد کر دیا، جس سے تجارتی تناؤ میں اضافہ ہوا اور مزید اقتصادی انتشار پیدا ہوا۔ غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے کمپنیاں منصوبے ملتوی کر رہی ہیں اور ملازمین کی چھٹنیاں کر رہی ہیں۔
Prepared by Christopher Adams and reviewed by editorial team.
Comments