صدر ٹرمپ کی جانب سے درجنوں ممالک سے درآمدات پر نئے عائد کردہ ٹیرف نے عالمی مارکیٹ میں کمی کا باعث بنا ہے۔ 5 اپریل 2025ء کو نافذ ہونے والے اس اقدام سے عالمی ایکویٹی کی قدر میں اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے، جو عالمی جی ڈی پی کے 10 فیصد سے زیادہ ہے۔ ایس اینڈ پی 500 جیسے بڑے اسٹاک انڈیکس کو نمایاں نقصان اٹھانا پڑا ہے، جو ریچھ مارکیٹ کے علاقے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ سونے، تیل اور بٹ کوائن کی قیمتیں بھی گر گئی ہیں، جس سے بڑھتی ہوئی عدم یقینی کا پتہ چلتا ہے۔ امریکہ کے بڑے تجارتی شراکت داروں کی کرنسیوں نے مختلف ردِعمل دکھایا ہے، جن میں سے کچھ ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہوگئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی معاشی مندی کا ایک بڑا امکان ہے۔
Prepared by Christopher Adams and reviewed by editorial team.
Comments